اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، امریکی
محکمہ دفاع نے اعلان کیا کہ امریکہ علاقائی جنگ چھڑنے کے خدشے کے پیش نظر مشرق وسطیٰ
میں مزید جنگی جہاز اور جنگی طیارے تعینات کر کے اپنی فوجی موجودگی کو مضبوط کر
رہا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کی نائب ترجمان سبرینا سنگھ نے ایک بیان میں کہا کہ وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے امریکی فوجی پوزیشن میں تبدیلی کا حکم دیا جس کا مقصد امریکی افواج کے تحفظ کو بہتر بنانا، اسرائیلی غاصب ریاست کے دفاع کے لئے حمایت میں اضافہ کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مختلف ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے امریکہ اسرائیل کی مدد کے لئے تیار ہے۔
امریکہ ایران اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے اسرائیل پر ممکنہ حملے کے پس منظر میں اپنی افواج کو متحرک کر رہا ہے۔
امریکہ نے اپنی بحری افواج کا کچھ حصہ مشرق وسطیٰ میں منتقل کر دیا اور اسرائیل کی حفاظت کے لئے خطے میں اپنی افواج کو ہائی الرٹ پر رکھا۔
یہ اعلان ایران اوراس کے علاقائی اتحادیوں قابض ریاست کی جانب سے تہران میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ اور بیروت میں حزب اللہ کے کمانڈر فواد شکرکے قتل پر جوابی کارروائی کی دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے۔
پینٹاگان کے ایک ترجمان کے مطابق “محکمہ دفاع علاقائی کشیدگی کے امکان کو کم کرنے کے لئے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے”۔
سنگھ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک خطے میں اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا، جس میں اسرائیلی غاصب ریاست کے دفاع کے لئے مضبوط عزم بھی شامل ہے۔
اپنے بیان میں سنگھ نے وضاحت کی کہ آسٹن نے حکم دیا کہ طیارہ بردار بحری جہاز لنکن اور اس کا بحری اسٹرائیک گروپ خطے میں کیریئر روزویلٹ اور اس کے اسٹرائیک گروپ کی جگہ لےگا۔
اپنے بیان میں ترجمان نے کہا کہ “جیسا کہ ہم نے اکتوبراور اپریل میں دوبارہ اپنی افواج کو اسرائیل کے لئے متحرک کیا تھا۔ اسی طرح دوبارہ تعینات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ دفاع قومی سلامتی کو بڑھتے ہوئے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے مختصر نوٹس پر تعینات کرنے کی صلاحیت کو برقرار رکھتا ہے۔
سبرینا سنگھ نے یہ بھی دعوی کیا کہ امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور خطے میں جنگ بندی پر زور دینے پر پوری توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے!
۔۔۔۔۔۔۔
110